نئی دہلی ،16؍نومبر (ایس اونیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکیجریوال کی زندگی پر بنی دستاویزی فلم کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا ہے ، یہ فلم آج ریلیزہوگی ۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ عدلیہ اظہار اور آزادی اظہار کے حقوق میں مداخلت نہیں کرسکتی اورفلم ساز کے حقوق تلف نہیں کیاجاسکتاہے ۔ عدلیہ نے یہ بھی کہاہے کہ کسی بھی مجرمانہ مقدمہ کی سماعت کے دوران فلم یا دستاویزی فلم کو کسی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیاجاسکتاہے۔ توقع ہے کہ ٹرائل جج ایڈیونس ایکٹ کے تحت ہی ثبوت و شواہد پر غور کریں گے ۔ جسٹس دیپک مشرا نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ عموماً عوام ان جیسے مسائل کے تحت عدلیہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے ۔ درخواست دہندہ نچکیتا نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس فلم کی اشاعت پر اس وقت تک حکم امتناعی جاری کیا جائے تا وقتیکہ فلم سے سیاہی پھینکے جانے کے منظر کو حذف نہیں کیا جاتا۔ اس فلم میں کجریوال پر سیاہی پھینکنے کے منظر کو بھی شامل کیا گیا ہے، کجریوال پر اسی درخواست دہندہ نے سیاہی پھینکی تھی۔فلم پر پابندی کے مطالبہ پر مبنی درخواست دائر کرنے والے کا کہنا ہے کہ اس فلم میں اس کو ایک ویلین کی ہیئت میں پیش کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ سماجی کارکن سے سیاستدان بنے اروند کجریوال کی کہانی پیش کرنے والی دستاویزی فلم ایک امریکی کمپنی وائس نے بنائی ہے۔ فلم 17 نومبر کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں ریلیز ہوگی۔ فلم کا ٹریلر پہلے ہی ناظرین کے درمیان مقبول ہوچکا ہے،یوٹیوب پر فلم کے ٹریلرکو محض 15 دن میں 14 ملین افراد نے دیکھا ہے ۔